اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور عالمی امور کے معروف تجزیہ نگار اور سیاسی رہنما ناصر شیرازی نے کہا ہے کہ اگر اعتزاز حسن کی شہادت کے بعد پاکستان کی حکومت دہشتگردوں کے خلاف سنجیدہ و ٹھوس کارروائی کرتی تو اس ملک میں امن و امان کی صورت حال میں بہتری آجاتی۔ ناصر شیرازی نے آج ریڈیو تہران کی اردو سروس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اعتزاز حسن نے اپنی شہادت سے سیکڑوں طالبعلموں کی جانیں بچائیں، لیکن اس کے باوجود حکومت نے اس بہادر طالبعلم کی قدردانی نہیں کی، بلکہ اعتزاز حسن کی شہادت کے بعد دہشتگردوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، جس کی وجہ سے پیشاور کا المناک سانحہ رونما ہوا۔ ناصر شیرازی نے کہا کہ ملالہ یوسفزئی طالبان دہشتگردوں کے حملے میں زخمی ہوئیں، لیکن حکومت پاکستان، امریکہ اور یورپی ممالک نے ان کی خوب آؤ بھگت کی اور اسے نوبل انعام سے نوازا گیا، لیکن اعتزاز حسن، کہ جنہوں نے آگاھانہ طور پر جام شہادت نوش کیا اور دہشتگرد کو اسکول کے اندر داخل ہونے نہیں دیا، ان کی قدردانی نہیں کی گئی اور صرف ستارہ شجاعت سے نوازا گیا۔ واضح رہے کہ ضلع ہنگو کے بہادر طالبعلم اعتزاز حسن آج سے ایک سال قبل چھ جنوری 2014 کو ہنگو شہر میں ایک دہشتگرد کو اسکول میں جانے سے روک دیا جس پر دہشتگرد نے اپنے آپ کو اڑا دیا اور اعتزاز حسن شہید ہوگئے۔
۔۔۔۔۔
/169